Friday, 4 July 2014

انجمن طلبہ اسلام کے بانی رکن،8 شہید راہ عشقِ رسول ﷺ جناب یعقوب قادری ؒ ایڈووکیٹ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم

انجمن طلبہ اسلام کے بانی رکن،8 شہید راہ عشقِ رسول ﷺ جناب یعقوب قادری ؒ ایڈووکیٹ

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

مجھے اندازہ ہی نہ ہو سکا تھاکہ راہ عشق ومستی کے سُرخیل جام شہادت نوش کرنے وا لے اتنی جلدی میں کیوں ہوتے ہیں اب جب خبر ملی کہ جناب یعقوب قادری ؒ ایڈووکیٹ شہادت کے رُتبے پر سرفراز ہوگئے ہیں جہاں قاتلوں کی شکست ہوئی ہے وہیں جناب قادری صاحبؒ کو میرے رب پاک نے جس مشن میں شہادت دی وہ تو وہی مشن ہے جس میں قادری صاحبؒ شھیدکو اقبال چوہدری شھید (سرگودہا) حضور بخش شھید، حافظ تقی شھید،حافظ افتخار شھید جیسے د وستوں کا ہمرکاب جو بننا تھا۔اِسی لیے اُنھیں جلدی تھی۔ الفاظ میں اتنی وسعت نہیں کہ جو کچھ اس عظیم انسان کے حوالے سے کہنے کی خواہش ہے وہ پوری ہو سکے۔ جناب قادری صاحبؒ عاشق رسولﷺ تھے اور وہ ابوجہل کے پیروکاروں کے لیے ننگی تلوار تھے۔ اِس لیے پاکستان بھر میں اہلسنت کے حوالے سے یا انجمن طلبہ اسلام کے حوالے سے کوئی اہم خدمات سر انجام دینی ہوتی تو پھر قادری صاحبؒ کے نام کا قُرعہ نکلتا سب دوستوں کو معلوم تھا کہ قادری صاحبؒ نے جھکنا سیکھا ہی نہیں وہ تو دربار نبی پاکﷺ کے سچے غلام تھے اُن کے سامنے نبی پاک ﷺ کی محبت کے دُشمن کیسے ٹھہر سکتے تھے۔ انجمن طلبہ اسلام جیسی آفاقی تحریک جس نے تعلیمی اداروں میں عشقِ مصطفےﷺ کے فروغ کا آغاز کیا تو جناب یعقوب قادری صاحبؒ اُن چند خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہوں نے انجمن طلبہ اسلام کی بنیاد رکھی یہ 1968 کی بات ہے۔ بس پھر کیا تھا حاجی حنیف طیب جیسے دوستوں کے ساتھ مل کر ملک کے طول و عرض میں فروغ عشقِ رسول ﷺ کے لیے کام کیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اُن کا کردار ہمیشہ اے ٹی آئی کے طلبہ کے ساتھ بڑئے بھائی اور باپ والارہا۔ نواب شاہ سندھ کی دھرتی میں پروان چڑھنے والے جناب یعقوب قادریؒ انتہائی ایماندار اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے راقم جب جناب قادری صاحب ؒ کی قیادت میں مصطفائی تحریک میں خدمات انجام دے رہا تھا تو راقم کے ا نسٹی ٹیوٹ میں ہی مصطفائی تحریک کے مرکزی اور صوبائی اجلاس ہوتے جہاں جناب ڈاکٹر ظفر اقبال نوری ، جناب عطاالمصطفیٰ نوری، جناب پروفیسر ندیم اشرفی جناب پروفیسر ڈاکٹر جاوید صدیقی، جناب خواجہ صفدر امین، جناب سید مقصود گیلانی، غلام مرتضی سعیدی ، جناب طاہر انجم، جناب میاں خالد حبیب الھی ایڈووکیٹ ،جناب اسحاق ررحمانی، جناب بدر ظہور چشتی ،جناب صفدر شاہ ،جناب صاحبزادہ فضل الرحمان اوکاڑوی ،جناب پروفیسر ارتضیٰ اشرفی ،جناب پروفیسر احمد اعوان جناب پروفیسر ظہیر ہنجرا ،شاہد دلدار مرحوم ، عبدالوحید مغل ، محمد علی انجم ۔ ممتاز سعیدی ، معین علوی حافظ مشتاق زاہد، حکیم غلام مر تضیٰ اور دیگر فعال دوست تشریف لاتے اور قادری صاحب کی تشریف آوری بھی ہوتی اور یوں وطن عزیز کی صورتحال اورتنظیمی صورتحال پر گفتگو ہوتی ۔ قادری صاحبؒ چونکہ مصطفائی تحریک جماعت اہلسنت اور جمیت العما ء پاکستان سے وابستہ رہے بلکہ جس پلیٹ فارم پر بھی عشقِ رسول ﷺ کے فروغ کے حوالے سے کام ہورہا ہوتا وہی پلیٹ فارم اُن کا ہوتا۔ جناب یعقوب قادری صاحب ؒ نظام مصطفےﷺ کے داعی تھے اور نظام مصطفےﷺ کے عملی نفاذ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ اللہ پاک اُن کے درجات بلند فرمائے۔ عمر کے اِس حصے میں جب آپؒ بزرگوں کی صف میں شامل تھے اتنا جوش وخروش اور فعال ہونا اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ پاک نے جناب قادری صاحب ؒ کو خصوصی طور پر نبی پاک ﷺ کے عشق کے فروغ کے مشن کے لیے چُنا ہوا تھا۔جناب یعقوب قادری ایڈووکیٹ ؒ کا بنگلہ دیش نامنظور تحریک، تحریک ختمِ نبوت ، تحریک نظامِ مصطفےﷺ میں بھرپور کردار رہا اور وہ ہر پروگرام اور ہر ہر جلوس میں پیش پیش رہے۔ اِس عظیم مردِ آہن کو دہشت گردوں نے جب شھید کیا تو اپنے طور پر تو اُنھو ں نے ایک شخص کو شھید کیا لیکن قادری صاحبؒ کے لیے لاکھوں آنکھیں اشکبار ہیں۔ ظالم قاتل ہمارے قادری صاحبؒ کو ہم سے الگ نہیں کرسکے قادری صاحبؒ شہادت کے مرتبے پر سرفراز ہوگئے وہ بھی روزے کی حالت میں جب آپ نمازِ ظہر کی ادائیگی کے لیے مسجد جارہے تھے۔ اللہ پاک قادری صاحب ؒ کے درجات بلند فرمائے اور سندھ حکومت کو چاہے کہ قادری صاحبؒ کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔